کاروار:10؍مارچ(ایس اؤ نیوز)ٹینکر کے ذریعے پانی سپلائی کرنے سے یا بورویل کھودنے سے پینے کے پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بلکہ اس کے بجائے کھلے کنوؤوں کے ذریعے بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی کو ترجیح دینے ہوگی۔ اس بات کی صلاح ضلع اترکنڑا پنچایت کے چیف ایکزی کوٹیو آفسر محمد روشن نے دی۔
وہ یہاں منگل کو محکمہ عوامی رابطہ اورنشر واشاعت کے زیراہتمام ’’ وارتھا اسپندنا۔ فون اِن ‘ پروگرام میں عوام کے فون کو ریسوو کرتےہوئے سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ گرام پنچایتوں کے پاس 14ویں معاشی منصوبے کے تحت رقم موجود ہے، جہاں جہاں پینے کے پانی کا مسئلہ سر اٹھاتاہے عارضی طورپر ٹینکروں کے ذریعے پانی سپلائی کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورویل کھودنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، البتہ پینے کے پانی کو مستقل طورپر حل کرنے کے لئے مختلف منصوبہ جات تشکیل دئیے جائیں گےجس کے لئے عوام سے بھی صلاح ومشورہ لیا جارہا ہے۔
موقع سے استفادہ کرتےہوئے ضلع کے مختلف مقامات سے عوام نے انہیں فون کئے اور اپنے اپنے مسائل بیان کئے۔ خاص کر منڈگوڈ تعلقہ بساپور کے راجیش نے اپنی دیہات کی سڑکوں اور ایس سی ، ایس ٹی منصوبے کے تحت رہائشی گھر وں کی عرضیوں کو پنچایت میں وصول نہ کرنے کی شکایت پیش کی۔ جس کا جواب دیتے ہوئے روشن نے کہاکہ آن لائن ٹیکنکل مسئلہ ہونے کی وجہ سے عرضیوں کو وصول نہیں کیا جارہاہے۔ انہوں نے سڑک کا مسئلہ اور عرضیوں کو قبول کرنے کا تیقن دیا۔ اسی تعلقہ کے مڈکیشور سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دھرما آبشار کا پانی پینے کے لئے استعمال کرنے کی صلاح بہت اچھی ہے، اس تعلق سے غورکرنے کے بعد فیصلہ لیاجائے گا۔
بھٹکل سے بڈن باشا ، انکولہ سے شری دھر گوڈا، کمٹہ کے گنیش نائک سمیت بے شمار لوگوں نے اپنے ذاتی مسائل سمیت اپنے گاؤں کے مسائل بھی پیش کئے، اسی طرح سڑکوں کی تعمیر، سڑکوں کی درستگی ، پینے کے پانی وغیرہ کے مسائل کے متعلق سوالات کئے۔ ضلع پنچایت سی ای اؤ محمد روشن نے نہایت صبر وتحمل سے عوام کے مسائل کو سماعت کرتے ہوئے انہیں جواب سے نوازا۔
پروگرام کے بعد اخبارنویسوں سے بات کرتے ہوئے سی ای اؤ نے کہاچونکہ یہ گرما کاموسم ہے ، اکثر مقامات پر پینے کے پانی کا مسئلہ درپیش ہے، جس کے لئے مختلف اسکیموں کوترتیب دیاجارہاہے۔ عوام نے اپنے مسائل کو جس طرح پیش کیا ہے اس سے کام کرنے کا جذبہ ابھرتاہے، انہوں نے یقین دلایا کہ آگے مزید توجہ دے کر عوامی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔